ذکرِ جمالِ رفتگاں
20 ویں عرسِ مبارک شمسُ المشائخ حضرت خواجہ سید اسلام الدین بخاری نظامیؒ کی نسبت سے، ’’ذکرِ جمالِ رفتگاں‘‘ کے تحت محترم المقام خواجہ اشرف نظامی صاحب کے دل نشین تذکرات و یادگار کلمات، مکتبۂ نظامیہ کی جانب سے پیشِ خدمت ہیں۔
السلام علیکم حضرت ! حضرت یادشت بخیر کہ اس کی بنیاد پر کچھ باتیں ہو جائیں تو میں نے سوچا کہ کچھ پیش کروں آپ کو کہ جب آپ دو ہزار ایک(2001) میں پی این سی میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے پروٹوکول ڈیپاںٹمنٹ میں مجھ سے ہی ملاقات کی۔ تو میں نے آپ کو بتایا کہ اس لیٹر کی بنیاد پر آپ کو جوائننگ رپورٹ دینی پڑے گی وہ جو ہوتی ہیں نا رپورٹ مائی سیلف فار ڈیوٹیز ٹائپ کی آپ نے وہ جوائننگ رپورٹ دے دی۔ اب آپ کا نام جب میں نے دیکھا امین الحق نظامی تو مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ نظامی لگاتے کیوں ہیں ِ؟کیوں لکھتے ہیں ؟تو میں نے کریم کانڈا والا آپ کا عقیدت من تھا مرحوم۔ میں نے اسے کہا یار ہمارے یہاں ایک صاحب ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا نام امین الحق نظامی ہے اور کچھ دنوں کے بعد کی بات ہے کہ اس وقت آپ نے اپنا تعارف پیش بھی کر دیا تھا دو گھنٹے کا آپ نے مجھے پہلے ہی دن اپنا تعارف پیش کیا تھا ۔جس میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ سجاد نشین ہیں اور آپ کی روحانی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ساری بتائی تھیں۔ تو وہ ساری باتیں میں نے ذہن میں رکھ کے میں نے کہا یار مجھ سے زیادہ قابل کانڈا والا ہے تو اس سے بات کرتے ہیں ۔تو کانڈا والا کافی حیران بھی ہوا اور اس نے کہا کہ چلو محمود الرشید کے پاس چلتے ہیں ،محمود الرشید نے ایک آدمی تھا مر گیا بیچارہ اللہ اس کی مغفرت کرے۔ تو ان کے پاس گئے تو انہوں نے ان کو بتائی ساری صورتیں جو آپ نے مجھے دو گھنٹے کا اپنا تعارف پیش کیا تو وہ انتہائی حیران ۔کہنے لگا کہ اتنی بڑی ہستی اور پی این ایس ای میں آگے اشرف یار ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا آپ کو پتا نہیں یہ کیا چیزیں ہیں، آپ کو ان چیزوں کا علم نہیں ہے لیکن آپ ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو حضرت پھر آپ کے ساتھ ہی لگے رہے اور اس کا ایسا ہوا کہ وہاں سے پھر وہ نوید بدر سے وہ ڈپارٹمنٹ لے لیا گیا اور پھر الیاس مصطفیٰ کو دیا گیا۔ تو ہم نیچے کے فلور پر ٹرانسفر ہو گئے وہاں پر گئے تو وہ سیٹنگ ارینجمنٹ بھی کچھ اس قسم کے تھے جہاں پر وہ اقبال اور وہ سب بیٹھتے تھے ،بیٹھنے کی اتنی جگہ تو نہیں تھی لیکن میں ہر وقت آپ کی سیٹ پر بیٹھتا تھا ۔اس وقت تک کچھ دنوں میں یہ چرچا پی این ایس میں ہو چکا تھا کہ کوئی اللہ کا نیک بندہ آیا ہوا ہے اور آہستہ آہستہ یہ بھی مشہور ہوتا چلا گیا کہ میں آپ کے ساتھ اٹیچ رہتا ہوں ۔
یہ باتیں مشہور ہوتی چلی گئیں کافی حد تک مشہور ہو گئیں، آپ کے پاس ہر وقت سیٹ کے سامنے میں بیٹھتا آپ سے باتیں سنتا آپ مجھے آہستہ آہستہ میری ڈرائیکلیننگ کرتے گئے کیونکہ میں اس وقت نماز روزے سے کافی دور تھا ۔پھر ایک بار کسی نے کہا کہ حضرت یہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے ،تو نماز تو پڑھتا نہیں ہے ۔یہ سراج نے کہی تھی۔ یہ بات آپ نے کہا کہ ارے پڑھ لے گا نماز میں بھی بہت وقت ہے ،ابھی زندگی پڑی ہوئی ہے اس کی۔ نماز شروع کر دے گا فکر نہ کریں۔
پھر اس طرح سے ہوا حضرت کہ ایک دن آپ نے مجھے کہا کہ اشرف بھائی آپ ایسا کریں کہ آج مغرب کی نماز ذرا پڑھ لیجیے گا گھر پہ تین فرض ضروری ہیں پڑھنا، تو میں نے وہ مغرب کی نماز تین فرض پڑھ لی گھر والے بھی پریشان امی ابا بھی پریشان کہ یہ سب کیا کر رہا ہے۔ پھر حضرت وہ جو میں نے مغرب پڑھی تو پھر عشاء کا بھی دل ہو گیا، عشاء پڑھی تو فجر کا بھی دل ہو گیا ،بس حضرت وہ جو نماز تھی اس کے بعد سے لے کے آج تک اللہ نے کوئی نماز چھڑوائی نہیں مجھ سے ۔کوئی نماز میری گئی نہیں آج سے، وہ مغرب کی نماز میں آپ نے کیا اس میںکیا رَمز تھا اس میں، وہ آپ ہی جانتے ہیں۔ تو وہ بہرحال اس طرح سے ہوا کہ حضرت میں نمازی بن گیا آپ کی صحبت میں پہلی سب سے بڑی بات جو تھی یعنی امی ابا کی تمام کوششوں کے باوجود بھی میں نہیں بن پایا لیکن آپ کی ایک وقت کی پتہ نہیں کیا وہ آپ ہی جانتے ہیں، آپ نے مجھے نمازی بنا دیا۔
حضرت پھر اس کے بعد کام کرتے رہے پھر وہ الیاس مصطفیٰ ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے وہریٹائر ہو گیا، پھر اس کے بعد آپ ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ بن گئے پھر وہ بریگیڈیر صاحب تھے بریگیڈیر صاحب کے ساتھ رہے۔ یہ سارے معاملات تو دفتر ی تھے جو میں نے بہت آہستہ سے مطلب جو جو ہلکی ہلکی بات ہے اب اس میں حضرت بات یہ تھی کہ آپ کچھ چیزیں ایسی یادیں ہیں اس میں کہ صبح کے وقت جب آپ آیا کرتے آفس میں تو آپ یہ کہتے کہ بھائی ناشتہ میں اشرف کے ساتھ ہی کروں گا تو آپ کا ناشتہ بھی لے آتا تھا میں کینٹین میں بھاگ کے بہترین چائے اور مرچ والا آملیٹ اور یہ سب اور دوپہر کا کھانا بھی وہ جمعہ کے دن ہماری بڑی یہ عیاشی ہوتی تھی، کیونکہ آپ جو ہے مجھے وہ باربی کیو کا کہتے تھے اس کے سامنے بیچ لگژری کے سامنے جو ہوٹل تھا۔ وہاں سے باربیکیو ارینج کرتے تھے اور پھر ہم جمعے کو کھاتے تھےکیونکہ ہفتہ اتوار چھٹی تھی ،ہم کہتے تھے دو دن کا ایک کوٹا پورا کر لیں عیاشی کر لیں ۔تو وہ جو لنچ ہوتا تھا حضرت وہ بڑا یادگار ہوتا تھا جمعے کا۔ تو صبح آپ آتے تھے آپ کا ناشتہ ہوتا تھا دوپہر ہوتی لنچ ہو جاتا اس طرح سے یہ معاملہ چلتے رہے اور یہ مطلب بہت سے لوگ جیلس بھی تھے مجھ سے کہ یہ سب حدسے زیادہ کر رہا ہے ،یہ کر رہا ہے وہ کر رہا ہے لیکن خیر یہ اُن کے معاملہ تھے مجھے تو ان کاموں میں بہت مزہ آ رہا تھا۔ توحضرت یہ سب باتیں ایسی تھیں کہ بس قدرتی ہوتی چلی گئیں۔
پھر مین وائل (دریں اثناء)آپ نے کہا کہ آپ کے والد کولےآئیں ہیں، تو اشرف بھائی آپ کے والد کو مجھے بیعت کرنا ہے تو والد صاحب کو اپنے بیعت کر لیا خلافت بھی دے دی ۔پھر اسلم بھائی کا کہا آپ نے اسلم بھائی کو بلایا اسلم بھائی کو بھی بیعت کر لیا مجھے اب تک آپ نے اس وقت تک آپ نے مجھے بیعت نہیں کی تھی ،پھر ایک روز میں نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت آپ مجھے بیعت کیوں نہیں کر رہے؟ کہنے لگے آپ کو میں نے واشنگ مشین میں ڈالا ہوا ہے، ڈرائی کلیننگ ہو جائے مکمل پھر بیعت کروں گا۔ پھر ایک روز آپ نے مجھے جمعہ کے دن سفید کپڑوں میں کہا کہ لباس میں آنا تو سفید کپڑوں میں آ گیا لباس کے ساتھ لباس میں تو آپ نے مجھے اس زینے سیڑھیوں کے پاس وہاں پہ کھڑے کھڑے بیعت کی تھی کیونکہ ڈپارٹمنٹ میں یہ کرتے تو تماشا لگانے والے بہت تھے وہاں پہ اقبال جیسےتبلیغی۔ تو ہم نے وہاں پر جا کر وہ جو زینے کے پاس وہاں پر بیعت کی تھی۔ اس طرح سے حضرت میں نظامی ہو گیا تھا ،آپ کے رحم و کرم سے۔
حضرت پھر اس درمیان میں ایسا ہوا کہ آپ نے کہا کہ جمعہ کے جمعہ اوپر مسجد میں ختم شروع کیا جائے آدھا گھنٹہ پہلے، تو اب کوئی نہ کوئی ذکر کے لیے دیتے اور ہم وہ اس کا ذکر شروع کرتے اس میں جو بھی بندے تھے ہم لوگ شریک ہو جاتے اور اس کے بعد یہ ہوتا، حضرت کہ ہم لوگ اوپر ختم کر رہے تھے ۔ختم کے بعد حضرت ایک روز آپ نے یہ کہا کہ اشرف بھائی آپ ایسا کیجئے کہ مجھے کہیے کہ یہاں پر آ کر آپ اوپر آئیں اور آپ نے کہا کہ اشرف بھائی یہ کہیے کہ یہاں پر جمعہ پڑھا دیجیے جمعہ یہی پڑھایا جائے۔ حضرت میں نے آپ سے گزارش کر دی کہ حضرت جمعہ آپ یہاں پڑھائیں تو حضرت وہاں پر جمعہ قائم ہو گیا ۔اب وہ حضرت جمعہ کیا قائم ہوا بس سب کو پتہ چل گیا لوگ پوڈیم پہ جانا چھوڑ دیئے سامنے پی آر سی میں جانا چھوڑ دیا اور یعنی مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔ پھر لابی میں دریاں بچھا دی نیچے سیڑھیوں کی جو چوکی تھی اس کے اوپر دریاں بچھا دی۔ لوگ ماشاء اللہ جمعہ وہیں پڑھنے آیا کرتے آپ کے پیچھے ۔
پھر حضرت اس میں تبرک بانٹنا شروع ہو گیا تو چاکلیٹ بانٹا کرتے تھے اور وہ تبرک اتنا مشہور ہو گیا کہ جو رہ جاتا وہ میری سیٹ پر آ کر تبرک لے جاتا، پھر حضرت رمضان آ جاتا تو رمضان میں آپ کہتے کہ بھائی کھجوریں بانٹو تو مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہم لوگوں کھجور مارکیٹ سے جا کے کھجور لے آتے اور کھجوریں بانٹتے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں اور لوگوں سے کہتے کہ بھائی آج کا افطار حضرت کے تبرک سے کیجیے ۔تو حضرت وہ تبرک بھی بڑا مشہور ہوا اور وہ چلتا رہا چلتا رہا ۔
اب اِس میں حضرت جو چیئرمین صاحب تھے ایس ٹی ایچ میں نفیس صاحب، وہ آپ سے وہ آپ کی بڑی قدر بھی کرتے تھے اور آپ سے عقیدت بھی رکھتے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا حضرت کے جب پی این ایس سی میں جب دو بار آگ لگی تو نقوی صاحب نے آپ کو باقاعدہ بلا کر یہ بات کہی تھی کہ نظامی صاحب اب دعا کر دیجیے کہ اب آگ نہ لگے، تو آپ نے اُس کے لیے باقاعدہ ایک سیشن کیا تھا اور وہ دعا کروائی تھی کہ آئندہ آگ نہ لگے اور نہ اُس کے بعد لگی بھی نہیں اللہ کے فضل سے۔ اور پھر نقوی صاحب کا تو یہ بھی تھا کہ کوئی بڑی مطلب کانفرنس کرواتے تھے یا کوئی بھی باہر کا ڈیلیگیشن آتا تھا یا باہردوسری کمپنی کے لوگ آتے تھے تو اُس سے اُس کے ابتدائیہ کے طور پر جو تلاوت ہوتی تھی یا جو کوئی چھوٹا موٹا بیان ہوتا تھا وہ آپ سے کرواتے تھے۔ آپ کی بڑی قدر کرتے تھے وہ عقیدت رکھتے تھے ۔
حضرت یہ ماشاء اللہ اِس طرح سے چلتا رہا کہ اللہ کے فضل سے چلتا رہا پھر اِس کے بعد جو وہ ہمارے مخالفین تھے اُنہوں نے ایک تحریک شروع کری باقاعدہ کہ یہ جمعہ جو ہے بند کیا جائے اور یہی وہ ایک سازش شروع ہوئی بڑے بڑے اونچے پیمانے پر تو انٹرسٹ (عام طور پر)ختم کرنے کے لیے آپ نے خودی آفر کر دیا کہ جی جمعہ ہم بند کر دیتے ہیں کوئی ایسی بات نہیں ۔تو وہ پھر وہ بریگیڈ صاحب تھے اُس وقت اُن کو اطلاع کر دی اور وہ جمعہ آپ نے خودی وہاں پہ ہارمنی( ہم آہنگی) کے طور پر آپنے وہ بند کر دیا ۔تو حضرت یہ اب آپ دیکھیں جب وہ آگ لگی تھی تو اس میں وہ کلام پاک جس کی آپ تلاوت کرتے تھے وہ محفوظ رہا باقی پوری بلڈنگ بھسم ہو گئی تھی سوائے اس کلام پاک کے جس پہ آپ تلاوت کرتے تھے۔ وہ محفوظ رہا، اللہ نے اسے محفوظ رکھا ۔پھرلے کر آپ وہ مطلب جو ڈپارٹمنٹ تھا ہمارا نیچے پروٹوکول کا گراؤنڈ فلور پہ اس کے اندر اوپر الماری میں رکھا ہوا بھی تھا وہ قرآن شریف۔
تو حضرت اچھی اچھی یادیں ہیں، یہ سارے معاملات ایسے تھے کہ بس آج کبھی یاد کرتے ہیں ،تو دل میں عجیب سا آتا ہے کہ کتنے اچھے ہم نے دن گزارے ۔اس کے ساتھ ساتھ حضرت جب ہم بیٹھا کرتے تھے تو ہم کافی چیزوں کے معاملات پہلے سے ڈسکس کر لیتے تھے مثلاً کوئی اگر عرس شریف آ رہا ہوتا تھا تو اس کی پلاننگ کر لیتے تھے کہ اس عرس میں ہم کتنا پکائیں گے؟ کیا کریں گے ؟رمضان میں اعتکاف ہوگا تو کتنے لوگوں کا ہوگا ؟رمضان میں جو اعتکاف ہوگا ان کو کیسی کیسی ہم نے تربیت دینی ہے ؟وہ ساری چیزیں آپ وہاں پر بیٹھ کے میں اور آپ ہم دونوں کی وہاں پر مشاورت ہو جاتی تھی حضرت آپ مجھے شریک کرتے تھے اور وہ آپ آگے جا کے اس پہ امپلیمنٹ ہو جاتی تھی تو حضرت وہ بہت اچھے معاملات چل رہے تھے۔
پھر آپ دیکھیں حضرت وہ زبیری صاحب تھے مرحوم پرویز زبیری صاحب جنرل مینیجر پلاننگ تھے وہ لیکن وہ آپ سے عقیدت کا کیا عالم تھا ان کا کہ وہ بس آپ کے پیچھے ہی گھومتے رہتے تھے، آپ کے بارے میں مجھ سے اکثر باتیں کرتے آپ کی یعنی عقیدت بہت تھی آپ سے ان سے اللہ ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے تو حضرت بڑے اچھے اچھے دن تھے، بڑی اچھی باتیں تھیں، بڑے اچھے واقعات تھے، اسی میں دن رات گزرتے گئے۔
حضرت ایک قیمتی بات رہ گئی خواجہ بزرگ کے بارے میں وہ یہ تھی حضرت کہ جب خواجہ بزرگ کراچی میں ہوتے تو خانقاہ بھی تشریف لاتے اور خاص طور سے جب جمعہ ہوتا تو جمعے کی امامت بھی فرماتے خطاب بھی فرماتے ۔تو حضرت وہ جو خطاب کا یعنی جو ممبر شریف پہ بیٹھ کے خطاب فرما رہے ہوتے تو حضرت آپ ان کے قدموں میں بیٹھے کرتے تھے یعنی خواجہ بزرگ ممبر شریف پہ بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ ان کے قدموں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ منظر تو بیت سو نے تو نے دیکھا ہوگا لیکن مجھے تھوڑا سا دکھ اس بات کا ہوا کہ کسی نے اس منظر کو کیپچر نہیں کیا ۔نہ جانے کیا بات تھی ورنہ حضرت اس سے خوبصورت تو میں نہیں سمجھتا کوئی اسنیپ ہوتا کہ خواجہ بزرگ خطاب کر رہے ہیں اور ان کے جانشین ان کے قدموں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ عقیدت کا عالم کی انتہا تھی اور اتنا خوبصورت منظر، اتنا خوبصورت منظر وہ منظر بس آنکھوں نے تو دیکھ لیا لیکن وہ محفوظ نہیں ہو پایا نہ جانے ہو سکتا ہے کسی کے پاس یہ قیمتی سرمایہ ہو تو خدا کے واسطے وہ اسے ریلیز کرے ہماری یادیں یاد آ جائیں کہ خدا خواجہ بزرگ جو ہیں ممبر شریف پہ خطاب کر رہے اور مرشد کریم ان کے قدموں میں بیٹھے ہوئے ہیں نیچے۔ تو اگر یہ منظر کسی کے پاس ہو تو اس کو ریلیز کرے مہربانی فرمائیں لیکن حضرت وہ اس سے اچھا منظر تو میں نے شاید کبھی نہیں دیکھا میں نے کیوںکہ آپ کی عقیدت کی انتہا دیکھی آپ کا ادب کی انتہا دیکھی آپ کی محبت کی انتہا دیکھی، کہ آپ اپنے مرشد کریم آپ کے جو پریڈیسیسر(پیش رو) ہیں ان کا آپ کیا احترام کرتے تھے۔ تو حضرت یہ منظر جو تھا یہ قابل دید منظر تو حضرت یہ بات رہ گئی تھی میں نے یہ بھی بتانا ضروری سمجھا۔
حضرتِ ، خواجہ بزرگ کی شان میں ان کے عقیدت میں آپ محفلیں بھی منعقد کرتے خانقاہ کے اندر ایک محفل کے اندر مجھے یاد ہے کہ حضرت آپ کو یاد ہوگا کہ وہ مازا کے جوس چلے تھے اس کی بوتلیں بہت ساری تھیں تو خواجہ بزرگ کے ساتھ ہم پیچھے بیٹھ جاتے تھے اور وہ حضرت میں ایک ایک بوتل جو ہے وہ کھول کے خواجہ بزرگ کو دیتا، خواجہ بزرگ اسے تبرک کر کے مجھے واپس کر دیتے اور وہ میں مریدوں کو دے دیتا اور وہ سب لوگ جو ہے اسے تبرک ،اس کو پی لیا کرتے پھر میں دوسری بوتل پیش کرتا خواجہ بزرگ وہ بھی تبرک کر کے واپس کر دیتے۔ اسی طرح سے میں ایک ایک بوتل خواجہ بزرگ کو پیش کرتا رہا اور خواجہ بزرگ مسکرا مسکرا کر اسے تبرک کر کر کے مجھے واپس کرتے رہے اور وہ میں تقسیم کرتا رہا مریدوں میں اور خواجہ بزرگ کا فیض وہ اس طرح وہاں پہ تقسیم ہوتا رہا ۔یعنی خواجہ بزرگ اتنی شفقت سے وہ بوتلیں مجھے واپس کر رہے تھے تبرک کر کے کہ سبحان اللہ اور وہ سب لوگوں نے مریدوں نے وہاں پر پیا وہ مازا کا جوس جو تھا۔ بہت پیار سے بہت شفقت سے کرتے تھے ،تو یہ بھی بڑا قابل دید منظر ہوتا تھا حضرت کو یہ بھی مجھے یاد ہے حضرت۔
حضرت یہ بہت ہی مبارک شب ہے اور خواجہ بزرگ کا عرس ہے حضرت شب کو آپ ہم سب کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا خاص طور سے یہ ضرور ہمارے حق میں دعا کیجیے گا کہ ہم آپ سب کے ہم تمام نظامی آپ کے فرمانبردار رہیں ،آپ سے عقیدت و احترام کرتے رہیں ، آپ کے تابعدار رہیں اور اسی راستے پر چلیں جو آپ کی تعلیمات ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کا فرمانبردار بنائے۔ یہ دعا ضرور حضرت ہمارے لیے کیجیے گا ہمارے حق میں تا حیات ہم آپ کی فرمانبرداری میں زندگی گزاریں اور مرتے دم تک آپ کے کاندھوں پر ہم یہاں سے روانہ ہو جائیں۔
آمین اللھم آمین

0 Comments