18 ذی الحجہ، 10 ہجری
یوم عید غدیر
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"
"جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔"
(جامع ترمذی، مسند احمد)
جب پڑے مشکل تو آئے تیری رحمت تھامنے
سیدی مولا علی شیرِ خدا ؑ کا ساتھ ہو
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"
ترجمہ:
"جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔"
(جامع ترمذی، مسند احمد)
عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ
ترجمہ:
"علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔"
لَا يُحِبُّ عَلِيًّا إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُ إِلَّا مُنَافِقٌ
ترجمہ:
"علی سے محبت نہیں رکھتا مگر مومن، اور علی سے بغض نہیں رکھتا مگر منافق۔"
"جس نے مولا علیؓ کو صرف ایک تاریخی شخصیت سمجھا اس نے علیؓ کو نہیں پہچانا۔
مولا علیؓ وہ دروازہ ہیں جس کی طرف خود مصطفیٰ ﷺ نے رہنمائی فرمائی۔۔۔
علم اللہ کا ہے علم کا سمندر اللہ ہے اس علم کا کامل مظہر رسول اللہ ﷺ ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں اب جو دروازے سے منہ موڑ کر شہر میں داخل ہونا چاہے وہ بھٹک تو سکتا ہے پہنچ نہیں سکتا۔"
"اولیاء، ابدال، اقطاب، غوث اور فقرا جس جس مقام تک پہنچے وہ اپنے اپنے درجے میں اسی نسبتِ محمدی ﷺ اور فیضِ علویؓ سے پہنچے۔ کیونکہ مولا علیؓ صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ وہ ادبِ مصطفیٰ ﷺ، علمِ مصطفیٰ ﷺ، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور قربِ مصطفیٰ ﷺ کا دروازہ ہیں۔"
"اس احقر کی نظر میں مولا علیؓ تک پہنچنا کسی شخصیت پرستی کا نام نہیں بلکہ اس دروازے تک پہنچنا ہے جس کی طرف خود رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا جو علیؓ کے ادب تک نہ پہنچا وہ ادبِ مصطفیٰ ﷺ سے محروم رہا اور جو ادبِ مصطفیٰ ﷺ سے محروم رہا وہ معرفت کے ذوق سے بھی محروم رہا۔"
"اللہ کُل علم ہے، محمد ﷺ اس علم کا شہر ہیں، اور علیؓ اس شہر کا دروازہ ہیں۔۔فقیر دروازے کو چھوڑ کر شہر تک پہنچنے کا دعویٰ نہیں کرتا۔"
"اللہ تک پہنچنے کا راستہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک پہنچنے کے لیے دروازہ مولا علی ہے۔۔ اور مولا علیؓ اس نسبتِ محمدی ﷺ کے عظیم ترین دروازوں اور سرچشموں میں سے ایک ہیں جن سے بے شمار اولیاء و فقرا نے فیض پایا۔"
اور ان میں سے ایک میرے مالک و مرشد حضور امین الاولیاء ہیں۔
مرشد مالک امین الحق امین سلسلہ
ہر دعاء میں ان کی آمین ربّناکا ساتھ ہو

0 Comments