Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

خبرنامہ نظام

شہادتِ حضرت عثمانِ غنی ؓ

 


شہادتِ حضرت عثمانِ غنی ؓ
یہ المناک واقعہ 18 ذوالحج 35 ہجری کو پیش آیا


جمعہ کا ہی دن تھا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، عصر کا وقت تھا قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے حضرت امام حسن، امام حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر اور دیگر لوگ آپ کے دروازے پہ پہرہ دے رہے تھے، لیکن باغی پچھلے گھر سے دیوار پھلانگ کے آپ کے گھر میں داخل ہوئے حملہ سے وار کیا۔ آپ کی زوجہ حضرت نائلہ آگے بڑھیں اور ہاتھ سے روکنا چاہا آپ کی انگلیاں کٹ گئیں، 

پھر دوسرا وار کیا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دایاں ہاتھ کٹ کر گر گیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے افسوس کیا اور کہا کہ تم نے وہ ہاتھ کاٹ دیا جس سے میں وحی کی کتابت کیا کرتا تھا۔ پھر اس کے بعد آپ پر نو(9) وار کیے گئے اور آپؓ کو شہید کر دیا گیا اور آپؓ کا خون قرآن مجید پڑھتے ہوئے اس آیت پہ گرا فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (البقرہ:137) تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مظلوم شہید کیے گئے۔

 بھوکے اور پیاسے شہید کیے گئے، ظلماً شہید کیے گئے اور دنیا کی تاریخ میں آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ اتنی بڑی حکومت کسی کے پاس ہو اور وہ خود گھیر لیا جائے۔ اس کا پانی بھی بند ہو جائے اور وہ حکم دے کہ نہیں میرے لیے آپ ایک قطرہ بھی خون نہیں بہائیں بلکہ آپ کے غلاموں نے جب تلواریں اٹھا لیں تو آپ نے فرمایا کہ میرا حکم ہے کہ تم تلواریں نیچے رکھو بلکہ میں تمہیں یہ آفر دیتا ہوں کہ جو غلام لڑے گا نہیں اور یہ میرے سے عہد کرتا ہے وہ آزاد ہے۔


حضرت عثمان غنی ؓ کو شہید کرنے والے باغیوں کا تعلق ایک گروہ سے تھا جو مصر، کوفہ اور بصرہ سے مدینہ منورہ آیا تھا۔ تاریخ کی اکثر کتب میں ان کے نام اور تفصیلات درج ہیں:

قاتل کا نام: مؤرخین اور سیرت نگاروں کے مطابق، حضرت عثمان غنی ؓ کو شہید کرنے والے باغیوں کے سردار کا نام عبدالیمن غافقی تھا۔

دیگر نمایاں باغی: ان کے علاوہ جن باغیوں کے ہاتھ آپ کے خون سے رنگے گئے تھے، ان میں سودان بن حمران اور قتارہ بن ابی قتارہ کے نام بھی تاریخ میں ملتے ہیں۔


حملے کا پس منظر: یہ باغی مدینہ منورہ میں خلیفہ وقت کے خلاف الزامات عائد کر کے جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا، پانی بند کر دیا اور بعد ازاں گھر کی دیوار پھلانگ کر آپ کو اس وقت شہید کر دیا جب آپ تلاوتِ قرآن مجید میں مصروف تھے۔ 


قرآن کے وہ اوراق جس پر صحابی رسول حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا خون گرا۔ یہ اُس اصل قرآن کی کاپی ہے جو ترکی کی ایک میوزیم میں محفوظ ہے۔


ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عثمان آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا ۔(طبقات ابن سعد)بیدار ہوکر آپ نے لباس تبدیل کیا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ،تھوڑی دیر بعد باغیوں نے حملہ کیا اور آپ کو تلاوتِ قرآن فرماتے ہوئے شہید کردیا ،اس وقت آپ قرآن مجیدسورۂ بقرہ کی آیت: 137 ترجمہ؛ (تمہارے لئے اللہ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے اور جاننے والا ہے) کی تلاوت فرما رہے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور عظمت پر لاکھوں سلام ،

شہید کا خون جس جگہ گرتاہے ،وہ جگہ اُس کی شہادت کی گواہی دیتی ہے۔ کسی کا خون کربلاکی سرزمین پر گرا ،کسی کا اُحد کی گھاٹیوں میں ،کسی کی شہادت گاہ میدانِ بدر ۔یہ مقامات اُن شہدا ء کی شہادت کی گواہی دیں گے لیکن اے عثمان غنی تمہار ے خون کی عظمتوں کو سلام جو قرآن کے اوراق پر گرا اور قیامت کے دن قرآن کریم کے اوراق آپ کی شہادت کی گواہی دیں گے ۔روزِ محشر ہر شخص اُس حال میں اٹھایاجائے گا جیساکہ اپنی موت کے وقت وہ دنیاسے گیا ،کوئی اَحرام باندھے ہوئے اٹھے گا ،کوئی سجدہ کرتے ہوئے ،آپ کی عظمتوں کو سلام کہ روزِ محشر آپ قرآن پڑھتے ہوئے اٹھیں گے ۔


Post a Comment

0 Comments