Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

خبرنامہ نظام

سالِ نو اور سوچ چکّی

 


 




[11:02, 1/2/2024] MURSHIDA BIBI

سالِ نو اور سوچ  چکّی


سمندر دوش پر یہ قید خانہ

اتھاہ گہرائیوں میں گُم یہ سوچیں

----------

ہجومِ انجماں میں چاند تنہا

ہجومِ مخلصاں میں کون تنہا؟

----------

نیا سال آگیا !کس سوچ میں ہو

گزشتہ ہر برس کے امتحان میں

----------

 تمھیں ناکامیوں نے آگے گھیرا 

کہ تم کو کامیابی بھی ملی کچھ؟

----------

بحمداللہ بکثرت کامیابی!

وہ آخر چھ برس سابق صدی کے

اور اب تیئس برس حاضر صدی

----------

یہ کل انتیس برس کا  امتحان تھا

کہ سر پر تاج کانٹوں کالگا تھا

میرے خواجہ نے اُس عید ِمسیح پر 

پس ِ دستار بندی کیا کہا تھا؟

----------

وہی انتیس برس کی آزمائش؟

مسیحا کے حواریوں نے ڈالی

----------

نبیٔ آل عمرانی ؑ کے صدقے

محمدؐپاک لاثانی کے صدقے

----------

اِس ادنیٰ اُمتی کو بھی ملی ہے 

وہی انتیس برس کی آزمائش

----------

الٰہی شکر تونے صبر بخشا

الٰہی شکر تونے اجر بخشا

----------

مجھے وہ اہلیہ تونے عطاکی

مری اُجڑی ہوئی دلّی بسا دی

----------

سری  سحرو یقیناًجنتی ہے 

تن ِ مردہ کو جنبش جس نے دی ہے

----------

سری حدِّ جنوں اللہ اللہ

اسی میں جانیاء نصرٌ من اللہ

----------

اسی نصرٌ من  اللہ سے ملا ہے

کہ سال ِ نو میں جاگا حوصلہ ہے

----------

کروں گا نوکری اللہ میاں کی

غلامی میں بنی ٔ انس و جاں کی

----------

نظامی سلسلہ زندہ رہے گا

اگر ہاتھ کارندہ رہے گا

الٰہی تابود خورشید و ماہی

چراغ چشتیاں را  روشنائی







Post a Comment

0 Comments